اب بڑوں کو سوچنا ہوگا کہ کب تک پولیس والے قربانیاں دیتے زخمی ہوتے رہینگے۔ جب بھی یہ آتےہیں ہمارے جوان زخمی ہوتے ہیں صرف اٹک ضلع میں ساڑھے تین سو سے زائد جوان زخمی ہیں انکے بھی گھر والے ہیں بچے ہیں انکو ہم کیا جواب دیں کس کو بتائیں کہ ہم کس کرب سے گزر رہے ہیں۔ ڈی پی او اٹک
مسلم لیگ ن جو وعدہ کرتی ہے اسے پورا کرنے کیلئے بہترین اقدامات بھی کرتی ہے اور اس کا رزلٹ بھی ملتا ہے۔پنجاب اور وفاق مل کر ایک صوبے کی یلغار کا جواب بھی دیتا ہے اور عوامی خدمت اور عوام کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے اقدامات بھی اٹھاتا ہے۔
وعدوں سے تکمیل تک کا سفر جاری ہے۔
ایسے ڈھیٹ ہیں، مانتے نہیں تھے ورنہ خاں صاحب تو کب سے کہتے تھے کہ بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بالآخر عملی طور پر بشریٰ بی بی کو خود یہ بات ثابت کر کے دکھانا پڑی۔
آج این اے 127 کے نتیجہ کے حوالے سے الیکشن ٹربیونل میں میرے وکلاء پیش ہوئے اور مکمل تیاری کے ساتھ تمام دستاویزات جمع کرائیں۔ مخالفین کے پاس کوئی شواہد نہیں تھے، جس وجہ سے ظہیر عباس کھوکھر نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ اگر ان کے پاس ثبوت تھے تو تاریخ کیوں مانگی؟ میری کامیابی کو چیلینج کیا تو اب
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے گورنر پنجاب کو بہترین جواب دیا ہے کہ اگر PTI سے ہمدردی ہے تو گورنر شپ چھوڑ کر PTI اس میں شامل ہو جائیں گورنر کو پنجاب سے PTI کے لوگ نہ نکلنے کی پریشانی ہے، حکومت چلانے کیلئے آپکے مشورے کی ضرورت نہیں ہے آپ اپنی جماعت کو مشورے دیں آئینی کردار ادا کریں۔
اکتوبر میں احتجاج کیلئے صوبے کے خزانے سے 81 کروڑ روپے خرچ کئے گئے گئی اب 24 نومبر کے احتجاج کیلئے 58 کروڑ سے زائد فنڈز کیلئے خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے چیف سیکریٹری سے درخواست کی ہے، ان حکمرانوں کے پاس صوبے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے پیسے نہیں ہیں مگر ریاست پر حملہ آور ہونے کیلئے ہیں