آنکھ سے آنکھ ملا بات بناتا کیوں ہے
تو اگر مجھ سے خفا ہے تو چھپاتا کیوں ہے
غیر لگتا ہے نہ اپنوں کی طرح ملتا ہے
تو زمانے کی طرح مجھ کو ستاتا کیوں ہے
وقت کے ساتھ ہی حالات بدل جاتے ہیں
یہ حقیقت ہے مگر مجھ کو سناتا کیوں ہے
ایک مدت سے جہاں قافلے گزرے ہی نہیں
ایسی راہوں پہ چراغوں کو جلاتا کیوں ہے
سو واری سجن جو آکھیا اے،
چنگے سجن کریندے تنگ تے نئیں
جدوں سجن حلالی نکھڑ ونجن
وت سوکھےلبھدے سنگ تے نئیں
کی نکھڑن نکھڑن لائی بیٹھا ایں
او تساں نکھڑ کے ویکھے رنگ تے نئیں
اج بھن کے کل وت گھن لیسو
اے دل اے کوئی کچ دی ونگ تے نئیں.
اُس نے مانگیں نشانیاں واپس..
آخری خط چُھپا لیا میں نے..
تیرےبعد کوئی نہیں ملا جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا
مجھے کس کی آگ جلا گئی ، مرے دل کو کس کا ملال تھا
کبھی موسموں کے سراب میں، کبھی بام و در کے عذاب میں
وہاں عمر ہم نے گزار دی، جہاں سانس لینا محال تھا
ھجر کا باب ہو گئے تم بھی
کتنے کم یاب ہو گئے تم بھی
میں نہ کہتا تھا عشق ظالم ھے
دیکھ لو ! خواب ہو گئے تم بھی۔
میری آنکھوں سے تیری یاد کا سایہ نہیں جاتا
میں نے مان لیا جاناں تم کو بھلایا نہیں جاتا
اک مدت سے تیرا ہی نام لکھا تھا اس دل پر
اف کیا کروں۔۔۔ وہ مجھ سے مٹایا نہیں جاتا
اور ہونے والے تو خود ہی ہو جاتے ہیں اپنے
کسی کو کہہ کر کبھی۔۔۔ اپنا بنایا نہیں جاتا
آنکھوں میں آنسو لے کے ہونٹوں سے مسکرائے
ہم جیسے جی رہیں ہیں کوئی جی کے تو بتائے
میڈا حال ثبوت ہے اجڑن دا،
آغاز وی میں، انجام وی میں.🖤
بندے جانڑدے ہن پہچانڑدے نئیں،
مشہور وی میں، گمنام وی میں.🥀
اوہ نئیں ملیا، مت مل گئ ہے،
کامیاب وی میں ، ناکام وی میں.🖤
میڈے "شاکر" گناہ ہن گردن تائیں،
معصوم وی میں ، بدنام وی میں
🖤💔🥀
اسی گلیاں سن کر جانیاں نے
تسی لک لک بیٹھ کے رونا ایں