//
sign in
Profile
by @danabra.mov
Profile
by @dansshadow.bsky.social
Profile
by @jimpick.com
AviHandle
by @danabra.mov
AviHandle
by @dansshadow.bsky.social
AviHandle
by @katherine.computer
EventsList
by @katherine.computer
ProfileHeader
by @dansshadow.bsky.social
ProfileHeader
by @danabra.mov
ProfileMedia
by @danabra.mov
ProfilePlays
by @danabra.mov
ProfilePosts
by @danabra.mov
ProfilePosts
by @dansshadow.bsky.social
ProfileReplies
by @danabra.mov
Record
by @atsui.org
Skircle
by @danabra.mov
StreamPlacePlaylist
by @katherine.computer
+ new component
Profile
Loading...









Loading...
اُس نے مانگیں نشانیاں واپس.. آخری خط چُھپا لیا میں نے..
آنکھوں میں آنسو لے کے ہونٹوں سے مسکرائے ہم جیسے جی رہیں ہیں کوئی جی کے تو بتائے
آنکھ سے آنکھ ملا بات بناتا کیوں ہے تو اگر مجھ سے خفا ہے تو چھپاتا کیوں ہے غیر لگتا ہے نہ اپنوں کی طرح ملتا ہے تو زمانے کی طرح مجھ کو ستاتا کیوں ہے وقت کے ساتھ ہی حالات بدل جاتے ہیں یہ حقیقت ہے مگر مجھ کو سناتا کیوں ہے ایک مدت سے جہاں قافلے گزرے ہی نہیں ایسی راہوں پہ چراغوں کو جلاتا کیوں ہے
اسی گلیاں سن کر جانیاں نے تسی لک لک بیٹھ کے رونا ایں