اُس نے مانگیں نشانیاں واپس..
آخری خط چُھپا لیا میں نے..
آنکھوں میں آنسو لے کے ہونٹوں سے مسکرائے
ہم جیسے جی رہیں ہیں کوئی جی کے تو بتائے
آنکھ سے آنکھ ملا بات بناتا کیوں ہے
تو اگر مجھ سے خفا ہے تو چھپاتا کیوں ہے
غیر لگتا ہے نہ اپنوں کی طرح ملتا ہے
تو زمانے کی طرح مجھ کو ستاتا کیوں ہے
وقت کے ساتھ ہی حالات بدل جاتے ہیں
یہ حقیقت ہے مگر مجھ کو سناتا کیوں ہے
ایک مدت سے جہاں قافلے گزرے ہی نہیں
ایسی راہوں پہ چراغوں کو جلاتا کیوں ہے
اسی گلیاں سن کر جانیاں نے
تسی لک لک بیٹھ کے رونا ایں